By usage of painkiller gel, blood of woman got blue in color. 188

دانت کے درد کا جیل استعمال کرنے پر خون کا رنگ نیلا ہوگیا

امریکا میں ایک خاتون کو اس وقت ہسپتال میں ایمرجنسی روم یمں لے جانا پڑا جب اس کی جلد اور خون کی رنگت نیلی ہوگئی۔

این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق رہوڈ آئی لینڈ کے میرام ہاسپٹل کے ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ 25 سالہ خاتون نے آکر کہا ‘میں بہت کمزور اور نیلی ہوگئی ہوں’۔

اور اس کی وجہ یا غلطی ایسی ہے جو پاکستان میں بھی اکثر افراد سے ہوجاتی ہے اور وہ ہے دانتوں کے درد سے نجات کے لیے متاثرہ حصے کو سن کردینے والے جیل کا بہت زیادہ استعمال۔

ڈاکٹروں کی جانب سے طبی جریدے دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں اس حوالے سے مقالہ شائع ہوا ہے جس میں دانتوں کے درد کے لیے سن کرنے والے جیل کا غیرمعمولی اور خطرناک سائیڈ ایفیکٹ بیان کیا گیا ہے۔

درحقیقت Benzocaine نامی یہ جیل خون میں آئرن کی مقدار بڑھا دیتا ہے جس سے اس کی ساخت بدل جاتی ہے اور وہ آکسیجن کو لے جانے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔

ہمارا جسم آئرن اور آکسیجن کے امتزاج کو جسمانی زندگی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے مگر ناکافی آکسیجن کے بغیر خون کے عام سرخ خلیات نیلے ہوجاتے ہیں جس کے بعد جلد اور ناخنوں پر بھی یہ رنگت غالب آجاتی ہے۔

اس عارضے کو methemoglobinemia کہا جاتا ہے جس میں جسمانی ٹشوز آکسیجن کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اس کیس میں جب مریضہ کے جسم سے خون کو نکالا گیا تو اس کی رنگت گہری نیوی بلیو تھی حالانکہ وہ شوخ سرخ رنگ کا ہونا چاہیے تھا۔

اس خاتون کے خون میں آکسیجن کی سطح 67 فیصد تک گھٹ گئی تھی جو کہ سو فیصد کے قریب ہونی چاہیے تھی۔

ڈاکٹروں نے فوری طور پر ایک دوا کا استعمال کرایا جس سے خون میں آئرن اپنے معمول کی سطح پر چلا گیا۔

اس دوا کا 2 بار استعمال کرانے کے بعد مریضہ کی معمول کی رنگت لوٹ آئی جبکہ خون میں آکسیجن کی سطح بڑھ گئی اور اسے صحت مند قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں