221

متحدہ عرب امارات میں پہلی یہودی عبادت گاہ کا افتتاح 2022 میں ہوگا

متحدہ عرب امارات میں کثیرالعقائد منصوبے کے تحت پہلی مرتبہ سرکاری سطح پر یہودی عبادت گاہ کی تعمیر کا آغاز اگلے برس ہوگا اور 2022 تک اس کی تکمیل ہوگی۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہودی عبادت گاہ ابوظہبی میں کثیرالعقائد ‘ابراہیمک فیملی ہاؤس’ کمپلیکس کا حصہ ہے جہاں مسجد اور چرچ بھی ہوگا۔

کمپلیکس کی تعمیر کا اعلان رواں برس فروری میں پوپ فرانسس کے متحدہ عرب امارات کے دورے میں کیا گیا تھا جو خطے میں پہلی عبادت گاہ ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مسلمانوں نے اس کمپلیکس کی بحیثیت تحمل اور برداشت کے مرکز کے طور پر حمایت کی ہے اور ان کا موقف ہے کہ اس سے مذہبی آزادی اور ثقافتی رنگا رنگی کو فروغ ملے گا۔

متحدہ عرب امارات میں یہودی کمیونٹی کی یہ پہلی عبادت گاہ ہوگی تاہم اس وقت دبئی میں ایک گھر کو نجی عبادت گاہ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں سرکاری سطح پر عیسائیوں کے لیے چرچ اور گرجاگھر اور گردوارا بھی اقلیتی افراد کو عبادت کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں باہر سے آکر کام کرنے والے افراد کی اکثریت ہے جن میں بھارت افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ابوظہبی میں قائم بھارتی سفارت خانے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 2 کروڑ60 لاکھ بھارتی رہائش پذیر ہیں جو مجموعی آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہے۔

متحدہ عرب امارات کا اسرائیل سے سفارتی تعلق نہیں ہے تاہم اسرائیلی حکام عالمی ایوٹنس میں شرکت کے لیے دورہ کرتے رہے ہیں۔

رواں برس 5 فروری کو پوپ فرانسس کو ابوظہبی میں ایک تقریب میں متحدہ عرب امارات میں تعمیر ہونے والے پہلے چرچ کی دستاویزات پیش کی گئی تھیں۔

ابو ظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید نے متحدہ عرب امارات میں تعمیر ہونے والے پہلے چرچ کی زمین کے دستاویزات پوپ فرانسس کو تحفے کے طور پر پیش کر دیا تھا۔

پوپ فرانسس نے جواب میں ولی عہد کو مصر کے سلطان ملک الکمال اور سینٹ فرانسس اسیسی کے درمیان 1219 کی ملاقات کا فریم کیا ہوا تمغہ پیش کیا تھا۔

پوپ فرانسس پہلے پوپ ہیں جنہوں نے عرب ممالک کا دورہ کیا اور انہوں نے متحدہ عرب امارات میں تاریخی اجتماع سے خطاب بھی کیا تھا اور یمن جنگ کے خاتمے پر زور دیا تھا۔

انہوں نے تمام مذہبی رہنماؤں سے کہا تھا کہ ‘لفظ جنگ کی منظوری دینے والے ہر پہلو کو مسترد کرنا ان کا فرض ہے، میں خاص کر یمن، شام، عراق اور لیبیا کے بارے میں سوچ رہا ہوں’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں