ون ڈے اور ٹی20 سیریز کیلئے سری لنکن ٹیم پاکستان پہنچ گئی 181

ون ڈے اور ٹی20 سیریز کیلئے سری لنکن ٹیم پاکستان پہنچ گئی

سری لنکا کی ٹیم ون ڈے اور ٹی20 سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہے اور انہیں بھرپور سیکیورٹی میں ہوٹل منتقل جا رہا ہے۔

سری لنکا کی ٹیم لہیرو تھری مانے کی قیادت میں کولمبو سے کراچی ایئرپورٹ پر پہنچی جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔

سری لنکن ٹیم کی آمد کے پیش نظر شہر میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور شاہراہ فیصل پر پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خصوصی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں جبکہ رینجرز نے نیشنل اسٹیڈیم کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

سری لنکا کی ٹیم کراچی میں تین ون ڈے میچز کھیلنے کے بعد لاہور میں تین ٹی20 میچز کھیلے گی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا پہلا میچ 27ستمبر کو کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جس کے بعد 29 ستمبر کو دوسرا اور دو اکتوبر کو تیسرا ون ڈے میچ کھیلا جائے گا۔

اس کے بعد لاہور کا قذافی اسٹیڈیم 5، 7 اور 9اکتوبر کو تین ٹی20 میچوں کی میزبانی کرے گا اور 10اکتوبر کو سری لنکن ٹیم وطن واپس لوٹ جائے گی۔

یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر لاہور میں دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے بعد سے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے قومی ٹیم نے کوئی بھی ٹیسٹ میچ اپنی سرزمین پر نہیں کھیلا۔

پاکستان سپر لیگ کے میچز کے کامیاب انعقاد کی بدولت اس دوران ون ڈے اور ٹی20 سیریز کے لیے ٹیمیں پاکستان آتی رہیں لیکن کسی بھی ٹیم نے اب تک لگاتار ون ڈے اور ٹی20 سیریز نہیں کھیلی۔

ابتدائی طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ ملک میں ٹیسٹ میچ کے انعقاد کے لیے سری لنکن کرکٹ بورڈ کو ٹیم بھیجنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن بعدازاں دونوں بورڈ نے پہلے ون ڈے اور ٹی20 سیریز کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور ان میچ کے دوران کیے گئے سیکیورٹی اقدامات کو مدنظر رکھ کر دسمبر میں ٹیسٹ میچ کے لیے ٹیم بھیجنے یا نہ بھیجنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔

اس دوران سری لنکن ٹیم کا دورہ اس وقت کھٹائی میں پڑ گیا جب انہیں دورہ پاکستان پر جانے کی صورت میں ٹیم پر دہشت گرد حملے کی دھمکی موصول ہوئی اور 10اہم سری لنکن کھلاڑیوں نے دورہ پاکستان سے انکار کردیا۔

اس مشکل صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے سری لنکن حکومت کو ٹیم بھیجنے کے لیے قائل کر لیا اور سری لنکن ٹیم کو صدارتی سطح کی سیکیورٹی کی فراہمی کا وعدہ کیا جس کے بعد اس دورے کی رہا ہموار ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں