162

کوٹ ادو مصطفیٰ کھر کے کتے کا روڈ ایکسیڈنٹ، موٹر سائیکل سوار میاں بیوی پر ہی مقدمہ درج، انصاف کہاں ہے— موحترم جناب روڈ کتوں کے لئے نہیں ہوتے———————–

کوٹ ادو مصطفیٰ کھر کے کتے کا روڈ ایکسیڈنٹ، موٹر سائیکل سوار میں بیوی پر ہی مقدمہ درج، انصاف کہاں ہے—

کوٹ ادو تفصیلات کے مطابق مصطفٰی کھر کے کتے کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا اور اس میں ان صاحب کے کتے کی ہڈی ٹوٹ گئی – بائیک پر سوار میاں بیوی کو بھی چوٹیں آئیں اب قصور تو صاحب کتے کا ہے روڈ کتوں کے لئے تو نہیں بنائے گے بندوں کے لئے بنے ہیں- کُتے کی روڈ ایکسیڈینٹ کے ذریعے کمر توڑنے کے مجرم میاں بیوی زخمی ہونے کے باوجود گرفتار کیے جانے کی بجائے براہ راست پھانسی پر نہ جانے کیوں نہ چڑھا دیے گئے جبکہ مصطفٰی کا ایک بھتیجا ایک بھتیجی ایم این اے ہیں۔
یہ صاحب بوڑھے ہو گۓ ہیں- ٹانگیں قبر میں لٹک رہی ہیں لیکن کمزوروں پر روا رکھے ظُلم و ستم اور انتقامی کاروائیوں کا اسکا طریقہ نہیں بدلا۔ اس گھٹیا شخص سے بھی زیادہ مکروہ وہ دلّال پولیس والے ہیں جنہوں نے اپنے آقاوں کے تلوے چاٹتے ہوئے ایکسیڈینٹ میں زخمی ہو جانے والوں کے خلاف کیس درج کر کے کاروائی کی۔

جاگیردارانہ نظام سندھ سے بھی زیادہ اینٹرینچڈ اور ظالمانہ ہے۔ میری دعا ہے یہاں کے بُت پرستوں کے ہاں بھی کوئی مجاہد جنم لے کیونکہ قانون ایسے لوگوں کا کیا بگاڑے گا جنکے گھر کے متعدد مرد و خواتین ہر وقت پارلیمینٹ میں موجود ہوتے ہوں۔ حسن نثار کی باقی باتیں سچ ہوں یا نہ ہوں یہ سچ ہے کہ یہ ووٹ لے کر نہیں چھین کر پارلیمینٹ میں جاتے ہیں۔ سسٹم انکی رکھیل ہے سیاسی جماعتیں انکے کلب۔ انکا ایک بچہ مسلم لیگ میں ملے گا دوسرا پی پی پی میں باپ پی ٹی آئی میں بیٹی کے پاس فوج میں سپلائی کا بڑا ٹھیکہ ہو گا یعنی قانوں میں اتنا پانی کہاں جو انکی انا کے آگے بند بنے۔

اب بھی اگر کوئی ان ظالموں کو ووٹ دے تو اس کے لئے حیف ہے- جو ان کے ان ظالمانہ کاموں کو دیکھتے ہوئے بھی انھیں کو ووٹ دیتا ہے —

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں