151

کہاں چلے گۓ، بنگالی اور ہم پاکستانی آج کہاں کھڑے ہیں—

کہاں چلے گۓ، بنگالی اور ہم پاکستانی آج کہاں کھڑے ہیں—

(ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کا دو ٹکے کا سکہ ہے، ہمارے چار روپے کے برابر

یعنی الحمدللہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب ہماری ٹکے کی اوقات بھی نہیں رہی۔۔۔۔ یہ وہی خطہ ہے، جس کے لوگوں کا مذاق انہیں بھوکے بنگالی کا نام دے کر اڑایا جاتا تھا۔ پستہ قد، کالا، مچھلی کی باس والا اور نجانے کیا کیا نام دیے گئے۔۔۔۔۔ لیکن اسی خطے کی خواتین کے لمبی زلفوں اور چست بدنوں پر ہوس بھری نظریں ہمیشہ مرکوز رہیں۔
پھر ہمارے جرنیلوں نے ان کی نسل تبدیل کرنے کا بیڑہ اٹھایا، لاکھوں مردوں کو قتل کیا اور لاکھوں خواتین کا ریپ کیا گیا۔
ان کے دانشوروں کو گولیاں مار کر بے دردی سے ہلاک کیا۔
لیکن ان کی دانش کو الباکستان کی وحشتیں ختم نہ کرسکیں۔
آج یہ ریاست ایسا اژدہا بن گئی ہے جو خود کو نگل رہا ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش علم و ہنر اور معیشت و معاشرت کے لحاظ سے ایک ابھرتا ہوا ملک بن گیا ہے۔
ان کی ترقی پسند سوچ ان کے اس سکے سے ہی ظاہر ہو رہی ہے، جس میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی کتاب پڑھ رہے ہیں۔
ہمارے دو روپے کے سکے پر ایک مسجد کی تصویر ہے، جسے ایک جابر، ظالم اور مطلق العنان بادشاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ وہی بادشاہ تھا جس نے اپنے باپ اور بھائیوں کو بھیانک طریقے سے قتل کرکے بادشاہت پر قبضہ کیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اپنے بھائی داراشکوہ سے دوستی کے جرم میں مجذوب شاعر سرمد کی کھال کھنچوا کر انہیں اذیت ناک موت سے دوچار کیا تھا۔
اس وحشی درندے نما حکمران کی ایک ایسی بے وقعت یادگار کو الباکستانی سکے کی زینت بنانا ہی اس ریاست کے کارپردازوں کی سوچ کو آشکارا کر دیتا ہے۔
بے وقعت اس لیے کہ جب یہ وسیع و عریض اور نہایت شان و شوکت کی حامل مسجد تعمیر کی گئی تو کیا لاہور میں مسلمانوں کو واقعی نماز کی ادائیگی کے لیے ایسی وسیع گنجائش والی مسجد کی ضرورت تھی؟ شاید اس وقت لاہور میں مسلمانوں کی کل آبادی اس مسجد کے ہال کو بھی نہ بھر پاتی۔۔۔۔۔
بنگلہ دیش نے ایسے کسی درندے نما حکمرانوں کو اپنی قوم کا ہیرو قرار نہیں دیا، بلکہ مستقبل کے ان نونہالوں کو اپنا ہیرو بنایا جو تحصیل علم میں مگن ہیں۔
ہاں ایک ضروری اور اہم بات جو رہ گئی وہ یہ ہے کہ سکے پر کتاب پڑھتے ہوئے لڑکے کے ساتھ کتاب پڑھتی ہوئی لڑکی کی بھی تصویر ہے ، اور اس نے اسکارف بھی نہیں باندھا ہوا ہے۔
الباکستان میں تو بڑے بڑے نامور اسکولوں میں اسکارف لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ آج ہی ایک وڈیو دیکھی کہ خیبر پختونخوا کی خواہ مخواہ پولیس حجام کی دکانوں سے ان نوجوانوں کو شیو بنوانے کے جرم میں پکڑ کر تھانے لے گئی۔
بنگلہ دیش ترقی کر رہا ہے، وہاں مذہبی غنڈوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے شہروں اور دیہاتوں میں لڑکیاں سائیکل چلاتی ہیں۔
ہمارے ہاں سیاہ عبایا میں لپٹی ہوئی بچیوں کا ریپ کرکے مار دیا جاتا ہے۔ مذہبی غنڈے ہمارے چھوٹے چھوٹے معصوم لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں اور انہیں قتل کر دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں